تین طلاق پرحکومت کاموقف ناقابل قبول:مولانافیروزاخترقاسمی

feroz akhtar qasmi

نئی دہلی،( صداے بھارت ڈیسک ) تین طلاق کے معاملے پرسپریم کورٹ میں داخل کیے گئے مرکزی حکومت کے حلف نامے پرردعمل کااظہارکرتے ہوئے مرکزی جمعیۃ علماکے جنرل سکریٹری مولانافیروزاخترقاسمی نے کہاکہ مسلمانوںکے شرعی مسائل میں کسی بھی حکومت کودخل دینے کاکوئی اختیار نہیں ہے اورمرکزی حکومت کے ذریعے سپریم کورٹ میں داخل کیاگیاحلف نامہ ہندوستانی مسلمانوںکے لیے قطعاً ناقابلِ قبول ہے۔مولاناقاسمی نے کہاکہ موجودہ این ڈی اے سرکاراپنے سخت گیر ہندوتواایجنڈے کے نفاذپر عمل پیراہے اور بتدریج اس سلسلے میں اپنے قدم بڑھارہی ہے،ان کاکہناتھاکہ تین طلاق کے مسئلے پر اپناموقف ظاہر کرکے حکومت نے یہ ثابت کردیاہے کہ وہ آئندہ دنوںمیں پورے ملک میں یکساں سول کوڈکے نفاذکی جانب بڑھ رہی ہے۔مولانانے کہاکہ مسلمانوںکے عائلی مسائل قرآن وسنت کے مطابق طے شدہ ہیں اورانھیں کسی دوسرے قانون کے ذریعے سے بدلایامنسوخ نہیں کیاجاسکتاہے۔انھوںنے کہاکہ طلاق یانکاح وغیرہ کے مسائل اسلام میں طے شدہ ہیں اور دنیابھرکے تمام مسلمان اسی کے مطابق اپنے معاملات طے کرتے ہیں ،اب اگر کوئی حکومت اس میں مداخلت کرے اورسماجی اصلاحات یاترقی کے جھوٹے اور پرفریب نعرے کے تحت براہِ راست شریعت پرہاتھ ڈالنے کی کوشش کی جائے تواسے ہرگزبرداشت نہیں کیاجاسکتا۔مولانافیروزاخترنے کہاکہ مرکزی حکومت اگرواقعی مسلم عورتوںیامسلم معاشرہ کے تئیںفکرمندہے تواسے مسلمانوںکی معاشی پسماندگی اور تعلیمی بدحالی پرتوجہ دینی چاہیے اوران کے درمیان تعلیم کے فروغ کے لیے مؤثراور سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں،طلاق یانکاح وغیرہ کے پرسنل مسائل کوموضوع بحث بناکرحکومت اصل مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹاناچاہ رہی ہے۔

Facebook Comments